4 اگست 2015 - 14:01
کاروان اسلامی کے اہتمام سے بانڈی پورہ کشمیر میں اسلامی کانفرنس کا اہتمام، سرکردہ علمائے دین کا خطاب

صوفیت کو کشمیر کی پہچان قرار دیتے ہوئے مولانا حامی نے کہا کہ صوفیت کو چار چاند لگانے اور اس کی وسعت بڑھائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اہل اعتقاد لوگوں کی زیادہ تعداد ہے اور ان کا مشن اہل اعتقاد کی بقاء کیلئے آخری دم تک خدمت کرنا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کاروان اسلامی کے اہتمام سے بانڈی پورہ میں ایک اسلامی اور اصلاحی کانفرنس کا منعقد ہوئی جس میں ریاست کے طول و عرض سے آئے عقیدت مندوں کے علاوہ سرکردہ علمائے دین، اسلامی مفکرین، واعظ، خطیب، مبلغین اور ائمہ مساجدے نے شرکت کی۔ بانڈی پورہ قصبہ کی نشاط پارک کے نزدیک کاروان اسلامی کے اہتمام سے ایک عظیم اجتماع ہوا جس میں کاروان اسلامی کشمیر کے سربراہ مولانا غلام رسول حامی نے موجودہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظریں وادی کی تمام سیاسی، سماجی، مذہبی اور اقتصادی اموارت پر مرکوز ہیں اور اعتقاد کی بقاء کیلئے آخری دم تک خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے ہزاروں لوگوں کی شرکت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں اہل اعتقاد لوگوں کی زیادہ تعداد ہے اور ان کا مشن اہل اعتقاد کی بقاء کیلئے آخری دم تک خدمت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت یہاں کی نوجوان نسل کو منشیات کی طرف دھکیلا جارہا ہے مگر اہل اعتقاد ان سازشوں پر چپ رہ کر خاموش تماشائی نہیں بیٹھیں گے۔ مولانا حامی نے کہا کہ وہ ہمیشہ اتحاد کے علمبردار رہے ہیں۔

کاروان اسلامی کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا تعلیم کے حوالے ایک عظیم مشن ہے جسے پورا کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اسمبلی میں اگرچہ شیخ العالم ریسرچ یونیورسٹی کے قیام سے متعلق بل پاس بھی ہوا تاہم سرکار نے اسے التواء میں رکھا اور اسکے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کاروان اسلامی کے تحت کئی تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں اور ان کا دائرہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ یتیموں کی تعلیم و تربیت کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔

صوفیت کو کشمیر کی پہچان قرار دیتے ہوئے مولانا حامی نے کہا کہ صوفیت کو چار چاند لگانے اور اس کی وسعت بڑھائی جائے گی۔ کاروان اسلامی کو عوام کا ترجمان قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اہل اعتقاد کی قیادت اب سامنے آکر تمام تر معاملات پر بات کرے گی اور عوام کو پروگرام دیئے جائیں گے۔ اس موقعہ پر علام اسلام کی بقاء کے ساتھ ساتھ نامساعد برسوں کے دوران جاں بحق ہوئے افراد کیلئے خصوصی دعائے مغفرت مانگی گئی اور ان کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

.......

/169